نئی دہلی،یکم مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے پیر کومسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کثیر جہتی مذاکرات کا مشورہ دیاہے تاکہ علاقے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اتوار کو نئی دہلی پہنچنے سے پہلے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے کثیر جہتی بات چیت کی وکالت کیں۔ایردوان نے کہاکہ ہمیں کشمیر میں مزید واقعات کے رونما ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کثیر جہتی مذاکرات کے ذریعے ہم مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا ایک راستہ نکال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان،پاکستان دونوں ترکی کے دوست ممالک ہیں اور وہ چاہتے ہیں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کاعمل مضبوط ہو۔آج ہی شام کو یہاں پہنچے ایردوان نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت سے پہلے جوہری سپلائر گروپ میں رکنیت کے لیے پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی کوشش کے حق میں بھی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے ڈبلیوآئی او این نیوز چینل سے ایک انٹرویو میں کہا،ہمیں کشمیر میں اور لوگوں کو ہلاک نہیں ہونے دینا چاہیے، کثیر جہتی مذاکرات کے ذریعہ، جس میں ہم شامل ہو سکیں، ہم اس مسئلے کا ایک بار میں ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ترکی کے صدر نے کہا کہ یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے نہ چھوڑیں جنہیں پریشانی کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے سے بہتر کوئی متبادل نہیں ہے، اگر ہم عالمی امن کی سمت میں شراکت دیں، تو ہمیں بہت مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ایردوان نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی ترکی کے دوست ہیں اور وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تمام فریقوں کے درمیان بات چیت کے عمل کو مضبوط کرنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ترکی میں کرد مسئلے کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اس کا مسئلہ کشمیر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کرد لوگوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے،بلکہ ہمیں ایک دہشت گرد تنظیم سے مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ (کرد مسئلہ)ایک زمینی تنازعہ ہے،جبکہ جموں و کشمیر میں صورت حال مختلف ہے، ہم ان کی آپس میں موازنہ کرنے کی غلطی نہ کریں۔غورطلب ہے کہ ترکی کے ایردوان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان دو طرفہ بات چیت ہوئی ہے، بات چیت میں دونوں ممالک کے صنعت کاروں نے حصہ لیا، حالانکہ اجلاس سے پہلے ترکی کے صدر ایردوان نے میڈیا سے بات چیت میں کشمیر معاملے پر مبینہ متنازعہ تجاویز دے ڈالی۔